سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزام میں ایک ہی دن میں 81 افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا

ایسا نظام یہاں بھی ہونا چاہیے سب کچھ ٹھیک ہوگا لیکن افسوس یہاں ایسا صرف غریب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے ۔۔


بیچارے زیادہ تر یمنی شہری تھے جن کو سزا دی گٸی اور باقی دوسرے ملکوں کے اپنے شہریوں کو بہت کم سزا دیتے ہیں

اٹھا رہا ھے جو قتنے میری زمینوں میں
وہ سانپ ہم نے ہی پالا ھے آستینوں میں
کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ھوگا
جو پھیلتا ہی چلا جارہا ھے سینوں میں
کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی
ریا کی جنگ ھے بس حاشیہ نشینوں میں
قصور وار سمجھتا نہیں کوئی خود کو
چھڑی ھوئی ھے لڑائی منافقینوں میں
یہ لوگ اس کو ہی جہموریت سمجھتے ہیں
کہ اقتدار رھے ان کے جانشینوں میں
یہی تو وقت ھے آگے بڑھو خدا کے لیے
کھڑے رھے یہاں تک تماش بینوں میں🎙

جراٸم کی سزا سخت سےسخت ھو مگر انصاف کے ساتھ . 

سعودی بادشاہ کو بھی یہی سزا دینی چاہیئے جس نے سعودی پاک زمین پر سینما گھروں کی اجازت دیں ہے۔

یورپ ان سے ناراض کیوں نہیں ہوا 

پاکستان میں بھی ایسا نظام ہونا چاہیے قانون سے بالا تر کوئی بھی نہیں ہے۔ورنہ روزانہ بم دھماکے وغیرہ جس میں بے گناہ معصوم لوگ مرتے ہیں سعودی عرب میں قانون سخت ہے اندرونی سعودی امن ہے۔

سعودی عرب میں ایک ہی دن میں 81 افراد کے سر قلم اکثریت یمنیوں کی ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی